فتنہ الہندوستان بلوچ روایات کوروند کرگھریلوخواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کررہے ہیں ،حکام نے پریس کانفرنس میں خاتون کااعترافی بیان چلادیا

فتنہ الہندوستان بلوچ روایات کوروند کرگھریلوخواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کررہے ہیں ،حکام نے پریس کانفرنس میں خاتون کااعترافی بیان چلادیا
ایڈیشنل چیف سیکرٹری داخلہ بلوچستان محمد حمزہ شفقات اور معاون خصوصی داخلہ بابر یوسف زئی نے کہاہے کہ فتنہ الہندوستان کے کارندوں نے بلوچ روایات کوروندتے ہوئے گھریلو خواتین کو دہشتگردی کیلئے استعمال کرناشروع کیاہے ،دہشتگرد منظور احمد بلوچ نے خواتین کو خودکش کیلئے افغانستان لے جاکر تیار کرتے ہیں اورپھر بلوچستان میں ان خواتین کودہشتگردی کیلئے استعمال کیاجاتاہے ،بلوچستان میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات کے تانے بانے افغانستان سے ملتے ہیں، جہاں سے عناصر دراندازی کر کے کارروائیاں کرتے اور دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، جبکہ شدت پسند نیٹ ورکس خواتین اور بچوں کو بھی بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔ان خیالات کااظہار انہوں نے ڈی آئی جی سی ٹی ڈی اعتزاز گورایا کے ہمراہ کوئٹہ میں مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا۔ پریس کانفرنس کے دوران حکام کی جانب سے گرفتار ہونے والی دہشتگردمنظور بلوچ کی اہلیہ رحیمہ بی بی کا بیان چلایاگیا خاتون کاکہناتھاکہ اس کے شوہر نے خودکش حملہ آور خاتون کو افغانستان منتقل کیا جہاں اسے دہشت گردی کیلئے تیار کیا گیا، جبکہ وہ خود حاملہ ہونے کے باوجود اپنے شوہر کی جانب سے لاتعلقی کا شکار ہے۔ خاتون کے مطابق اس کا شوہر اس کا موبائل دہشت گردی کے عزائم کیلئے استعمال کرتا رہا، جبکہ ایک خودکش حملہ آور خاتون کو ان کے گھر میں ٹھہرایا گیا اور مکمل سہولت فراہم کی گئی۔حکام نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خلاف بھرپور کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے اور انٹیلی جنس بیسڈ آپریشنز (IBOs) میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے نتیجے میں دہشت گرد نیٹ ورکس کو نقصان پہنچایا جا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دہشت گردی کا کسی مذہب سے کوئی تعلق نہیں اور خودکش حملے اسلام میں مکمل طور پر حرام ہیں۔یہ عناصر نہ صرف بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہے ہیں بلکہ اس خطے کی ترقی کی راہ میں بھی بڑی رکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔ جہاں کہیں ترقیاتی منصوبے شروع ہوتے ہیں، یہ عناصر انہیں نشانہ بناتے ہیں یہ عناصر نہیں چاہتے کہ بلوچستان میں مکمل امن قائم ہوں قانون نافذ کرنے والے اداروں نے حال ہی میں دالبندین سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون، رحیمہ بی بی کو حراست میں لیاہے اس خاتون کو اس کے شوہرکی جانب سے دھوکے کا سامنا کرنا پڑا، اوریہ انتہائی دردناک مثال ہیں کہ کس طرح ایک پاکیزہ مقدس رشتے کو ان عناصر نے اپنے مذموم مقاصد کیلئے استعمال کیاہے ۔حکام نے بتایاکہ رحیمہ بی بی کا کیس خود اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ کس طرح ایک عورت، جس کا شوہر اس نیٹ ورک میں شامل تھا، ذہنی اذیت، عدم تحفظ اور خطرے کا شکار ہوئی۔ ایک حاملہ خاتون کو اس طرح تنہا چھوڑ دینا اور اس کی زندگی کو خطرے میں ڈال دینا یہ ان عناصر کی بے رحمی کو ظاہر کرتا ہے۔حکام نے تشویش کااظہار کیاکہ سرحد پار افغانستان کی سر زمین پاکستان کے خلاف استعمال ہو رہی ہے، جہاں یہ عناصر پناہ لے کر منصوبہ بندی کرتے ہیں اور مقامی افراد کو بھی اس نیٹ ورک کا حصہ بنانے کی کوشش کرتے ہیں یہ ایک مسلسل کر اس بارڈر خطرہ ہے جس کا موثر جواب ضروری ہے۔بلوچ خواتین کو سہولت کاری، پروپیگنڈا اور خود کش حملوں کے لیے استعمال کیا جارہا ہے یہ بلوچ ثقافت، روایات اور خواتین کے احترام کے خلاف ایک کھلی جارحیت ہے اور معاشرتی شناخت کو کمزور کرنے کی کوشش ہے۔حکام نے بتایاکہ جب ایسے کیسز سامنے آتے ہیں تو یہی دہشت گرد تنظیمیں اپنے استعمال کیے گئے افراد سے لا تعلقی اختیار کر لیتی ہیں یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے تا کہ خود کو بچایا جا سکے اور سارا بوجھ متاثرہ فرد پر ڈال دیا جائے۔انہوں نے کہاکہ اسلام میں خودکش حملے مکمل طور پر حرام ہیں یہ نہ جہاد ہے اور نہ قربانی بلکہ ایک سنگین گناہ ہے، جس کا مذہب سے کوئی تعلق نہیں۔جب بھی ریاست ایسے نیٹ ورکس کے خلاف موثر کارروائی کرتی ہے تو بعض نام نہاد انسانی حقوق کے کارکن بلا تحقیق شور و غوغا ہر پا کر دیتے ہیں، جس سے نہ صرف حقائق مسخ ہوتے ہیں بلکہ دہشت گردوں اور ان کے سہولت کاروں کے نیٹ ورک کو تحفظ ملتا ہے۔ مزید بر آن، منظور احمد کی سرگرمیاں محض ایک فرد تک محدود نہیں تھیں بلکہ وہ ایک منظم دہشت گردنیٹ ورک سے منسلک تھا۔ پاکستان میں کسی خود کش حملہ آور کا سہولت کار بنا، اسے سرحد پار افغانستان لے جانا اور وہاں اسے خود کش حملے کی تربیت دلوانا کسی عام فرد کے بس کی بات نہیں، بلکہ یہ ایک مربوط اور منظم دہشت گردی کے ڈھانچے کی عکاسی کرتا ہے۔اس کے بر عکس ریاست کا رویہ ہمیشہ متاثرین، خصوصا خواتین کے حوالے سے ہمدردانہ ، ذمہ دارانہ رہا ہے۔ ریاست نہ صرف ان کے تحفظ کو یقینی بناتی ہے بلکہ ان کی بحالی اور معاونت کے لیے بھی اقدامات کرتی ہے۔ جبکہ دہشت گرد عناصر خواتین کو اپنے مذموم مقاصد کے لیے ہر ممکن طریقے سے استعمال کرتے ہیں، اور جب اپنے عزائم میں ناکام رہتے ہیں تو انہی متاثرین سے لا تعلقی اختیار کر کے انہیں تنہا چھوڑ دیتے ہیں۔ یہ واضح تضاد اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ کون حقیقی معنوں میں انسانی اقدار کا پاسدار ہے اور کون انہیں صرف اپنے مفادات کے لیے استعمال کرتا ہے۔حکومت اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے لے رہی ہے اور متعلقہ اداروں کو واضح ہدایات دی جاچکی ہیں کہ تمام سہولت کاروں کو قانون کے کٹہرے میں لایا جائے۔ تاہم، اس کے ساتھ ساتھ معاشرتی شعور بھی اتنا ہی ضروری ہے۔ریاست پاکستان اپنے شہریوں کے تحفظ کے لیے پر عزم ہے، اور ہم کسی کو بھی یہ اجازت نہیں دیں گے کہ وہ ہماری خواتین کو بطور ہتھیار استعمال کرے یا ہمارے معاشرے کو کمزور کرے۔معاون خصوصی برائے داخلہ بابر یوسفزئی نے کہاکہ دہشت گرد افغانستان سے پاکستان میں داخل ہو کر کارروائیاں کرتے ہیں اور بعد ازاں دوبارہ سرحد پار فرار ہو جاتے ہیں، جو کہ ایک منظم نیٹ ورک اور کراس بارڈر خطرے کی نشاندہی کرتا ہے۔شدت پسند عناصر اب اپنے مذموم مقاصد کیلئے خواتین اور معصوم بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کر رہے ہیں، جو نہ صرف انسانیت سوز عمل ہے بلکہ بلوچ روایات کے بھی سراسر منافی ہے۔بابر یوسف زئی نے کہاکہ یہ واقعہ اس بات کی واضح مثال ہے کہ دہشت گرد عناصر کس طرح مقدس انسانی رشتوں کا استحصال کر رہے ہیں اور عام گھروں تک رسائی حاصل کر کے اپنے نیٹ ورکس کو وسعت دے رہے ہیں۔بعض عناصر ریاستی کارروائیوں کے خلاف گمراہ کن پروپیگنڈا کر کے حقائق کو مسخ کرتے ہیں، جس سے دہشت گردوں کے سہولت کاروں کو فائدہ پہنچتا ہے۔انہوں نے عوام، خصوصا والدین سے اپیل کی کہ وہ اپنے اردگرد مشکوک سرگرمیوں پر نظر رکھیں اور شادی جیسے اہم معاملات میں خاندانی پس منظر کی مکمل جانچ پڑتال کریں۔انہوں نے کہا کہ ریاست دہشت گردی کے خاتمے کیلئے پرعزم ہے اور کسی کو بھی خواتین یا بچوں کو بطور ہتھیار استعمال کرنے یا معاشرے کو عدم استحکام کا شکار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔انہوں نے کہاکہ دشمن کے ناپاک عزائم کو ہر صورت ناکام بنایا جائے گا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ منطقی انجام تک جاری رہے گی۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.