پاکستان بار کونسل کے ممبر منیر احمد خان کاکڑ نے بلوچستان بار کونسل کے قوانین میں حالیہ ترامیم سے متعلق جاری صورتحال پر اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بلوچستان بار کونسل نے اپنے قانون و رولز میں ترمیم کرتے ہوئے ایک شفاف طریقہ کار وضع کیا تھا، جس کے تحت نئے وکلا کی انرولمنٹ سے قبل بار کونسل کی تشکیل کردہ کمیٹی ان کے انٹرویوز لیتی ہے، اور بعد ازاں فائل انرولمنٹ کمیٹی کو بھیجی جاتی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس نوعیت کا نظام پہلے ہی پنجاب اور سندھ میں نافذ العمل ہے، تاہم بدقسمتی سے بلوچستان میں اس اصلاحی اقدام کو متنازع بنانے کیلئے عدالت میں درخواست دائر کی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان ہائی کورٹ کے معزز چیف جسٹس جسٹس محمد کامران خان ملاخیل کی جانب سے دیا گیا فیصلہ بار کونسل جیسے خودمختار ادارے کے معاملات میں واضح مداخلت کے مترادف ہے۔منیر احمد کاکڑ نے کہا کہ چیف جسٹس ایک طرف عدلیہ کی آزادی، قانون کی حکمرانی اور بنیادی انسانی حقوق کی بات کرتے ہیں، مگر دوسری جانب ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور بیبو بلوچ سمیت دیگر معاملات پر خاموشی اختیار کرنا سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ طرز عمل دوہرا معیار ظاہر کرتا ہے جو تشویش کا باعث ہے۔انہوں نے مزید کہا کہ صوبہ پہلے ہی مالی مسائل کا شکار ہے، لیکن اس کے باوجود چیف جسٹس کا رویہ نہ صرف حکومت کے خلاف متحرک دکھائی دیتا ہے بلکہ بار کونسل جیسے اداروں میں بھی مداخلت کی جا رہی ہے۔انہوں نے واضح کیا کہ بار کونسل ایک خودمختار ادارہ ہے اور اسے اپنے معاملات خود چلانے کا مکمل اختیار حاصل ہے۔ چیف جسٹس سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ بار کے معاملات میں مداخلت سے گریز کریں اور اداروں کو ذاتی مفادات کیلئے استعمال نہ کیا جائے، چیف جسٹس کو اگر بار کے معاملات میں دلچسپی ہے تو پھر چیف جسٹس کے عہدے سے استعفیٰ دیکر بار الیکشن میں حصہ لیں اور پھر بار کے معاملات چلائیں۔
Comments 0