صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ کی زیر صدارت نیو ٹراما سینٹر کوئٹہ سے متعلق پروگریس ریویو اجلاس منعقد ہوا، جس میں سینٹر کی فعالیت، انتظامی امور، جدید طبی آلات کی فراہمی اور سروس ڈیلیوری کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔اجلاس میں سیکرٹری صحت مجیب الرحمان، سابق سیکرٹری صحت پنجاب علی جان، ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ امین مندوخیل، ایڈیشنل سیکرٹری صحت ثاقب کاکڑ، سی ای او ٹراما سینٹر ارباب کامران، بلوچستان ہیلتھ مینجمنٹ اینڈ انفارمیشن سسٹمز کے صوبائی کوآرڈینیٹر ابابگر بلوچ، ڈائریکٹر آپریشنز ٹراما سینٹر ڈاکٹر شیرافگن رئیسانی سمیت دیگر سینئر ڈاکٹرز اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔اجلاس کو ڈائریکٹر آپریشن نیو ٹراما سینٹر ڈاکٹر شیر افگن رئیسانی نے تفصیلی بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ سینٹر کو مکمل طور پر فعال بنانے کے لیے اقدامات تیزی سے جاری ہیں، جبکہ ایمرجنسی سروسز کے اجرا، اسٹاف کی تعیناتی اور جدید مشینری کی تنصیب کے مختلف پہلوں پر بھی کام ہو رہا ہے۔صوبائی وزیر صحت بخت محمد کاکڑ نے ہدایت کی کہ تمام انتظامی و طبی امور کو جلد از جلد حتمی شکل دی جائے تاکہ نیو ٹراما سینٹر کو فوری طور پر عوام کے لیے فعال کیا جا سکے اور ایمرجنسی کی صورت میں معیاری طبی سہولیات کی بروقت فراہمی یقینی بنائی جا سکے۔انہوں نے کہا کہ حکومت بلوچستان صحت کے شعبے کی بہتری کو اولین ترجیح دے رہی ہے، اور اس مقصد کے لیے ہسپتالوں میں جدید طبی سہولیات کی فراہمی، ڈاکٹرز اور پیرامیڈیکل اسٹاف کی کمی کو پورا کرنا، دیہی و دور دراز علاقوں میں بنیادی صحت مراکز کو فعال بنانا اور ایمرجنسی رسپانس سسٹم کو مزید موثر بنایا جا رہا ہے۔وزیر صحت نے مزید کہا کہ ٹراما سینٹرز کو جدید خطوط پر استوار کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے تاکہ ٹریفک حادثات اور دیگر ہنگامی حالات میں قیمتی جانوں کو بچایا جا سکے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ صحت کے شعبے میں اصلاحات کے ذریعے عوام کو معیاری، سستی اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جائیں گی۔اجلاس کے اختتام پر اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ نیو ٹراما سینٹر کو جلد از جلد مکمل طور پر فعال کر کے عوام کی خدمت کے لیے پیش کیا جائے گا۔
Comments 0