کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت اجلاس، پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال

کمشنر کوئٹہ کی زیر صدارت اجلاس، پیٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال
کمشنر کوئٹہ ڈویژن شاہزیب خان کاکڑ کی زیر صدارت پیر کے روز شہر میں موجودہ حالات کے پیش نظر پٹرولیم مصنوعات کی دستیابی سے متعلق ایک اجلاس منعقد ہوا۔ اجلاس میں ڈپٹی کمشنر کوئٹہ مہراللہ بادینی، اسسٹنٹ کمشنر (ریونیو)کوئٹہ ڈویژن بہادر خان کاکڑ، پٹرول پمپس مالکان اور مختلف آئل کمپنیوں کے نمائندوں نے شرکت کی۔اجلاس کے دوران کوئٹہ شہر میں پٹرولیم مصنوعات کی موجودہ صورتحال، اسمارٹ لاک ڈان کے ممکنہ اثرات، اور ڈیمانڈ و سپلائی کے نظام کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ حکام نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ شہر میں تاحال پٹرول کی کوئی قلت نہیں ہے اور وافر مقدار میں دستیاب ہے۔اجلاس کو بتایا گیا کہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں کراچی سے ایک سے دو روز کے اندر اضافی سپلائی ممکن بنائی جا سکتی ہے۔ مزید یہ کہ پاکستان اسٹیٹ آئل (PSO) کے ڈپو میں تقریبا تین لاکھ لیٹر پٹرول ذخیرہ کرنے کی گنجائش موجود ہے، جسے ضرورت پڑنے پر فوری استعمال میں لایا جا سکتا ہے۔شرکا کو آگاہ کیا گیا کہ شہر میں ایرانی تیل کی موجودگی کے باعث بھی فی الحال کسی قسم کی کمی کا سامنا نہیں ہے۔ اجلاس میں یہ بھی بتایا گیا کہ کوئٹہ میں روزانہ تقریبا 14 لاکھ لیٹر پٹرول کی طلب ہے، جو باقاعدگی سے پوری کی جا رہی ہے، اس لیے کسی ممکنہ بحران کا اندیشہ نہیں۔اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ تمام پٹرولیم کمپنیوں کو پابند کیا جائے گا کہ وہ کم از کم ایک ہفتے کا اسٹاک اپنے پاس لازمی رکھیں تاکہ کسی بھی ہنگامی صورتحال میں فوری طور پر ضرورت پوری کی جا سکے۔کمشنر کوئٹہ ڈویژن نے ڈپٹی کمشنر کو ہدایت کی کہ وہ پٹرولیم کمپنیوں کے ساتھ علیحدہ اجلاس منعقد کرکے سپلائی، ذخیرہ کرنے کی گنجائش، ایڈوانس اسٹاک اور ڈپوز کی صورتحال سے متعلق تفصیلی رپورٹ پیش کریں۔اس موقع پر کمشنر شاہزیب خان کاکڑ نے کہا کہ صوبائی حکومت عوام کو سہولیات کی فراہمی اور پٹرولیم مصنوعات کی بلا تعطل دستیابی کو ہر صورت یقینی بنائے گی، اور کسی بھی ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لیے پیشگی اقدامات مکمل رکھے جائیں گے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.