* کوئٹہ کےشہری *غیور، مہمان نواز* اور *پر امن لوگ* ہیں۔تاہم دہشتگرد حملے کے دوران بعض شہریوں کارویہ ایک *سوالیہ نشان* بن گیا ہے۔جب *کوئٹہ پولیس* دہشتگردوں سے مقابلے میں مصروف تھی بعض شر پسند شہریوں نے موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے *سرکار ی املاک* بشمول موٹرسائیکل ، گاڑیاں، رکشے، جو کہ سرکاری تحویل میں تھے ان کو چوری کیا یہ عمل بخود دہشتگردی کے زمرے میں آتا ہے۔
* جن شہریوں نے سرکاری تحویل سے *موٹر سائیکل، گاڑی* اور *رکشہ* یا کوئی بھی سرکاری املاک چوری کیا ہے ان کو خبردار کیا جاتا ہے کہ *کوئٹہ پولیس* ایک *آپریشن لانچ* کرنے جارہی ہے جس میں تمام *چوری شدہ سامان* کو ریکور کیا جائے گا۔ اور جن کے قبضے سے چوری شدہ سامان برآمد ہوا ان کو بھی *دہشتگردوں کا ساتھی* تصور کیا جائے گا۔ اور ان کے خلاف دہشتگردی دفعات کے مطابق مقدمے چلائے جائے گے۔
* *کوئٹہ پولیس* عوام کی خدمت میں ہمہ وقت مشغول ہیں ایسے تمام اشخاص جنہوں نے *فرط جزبات* میں سرکاری املاک چوری کی۔ ان کو *48 گھنٹوں* کی مہلت دی جاتی ہے کہ سرکاری تحویل سے *چوری شدہ سامان* موٹر سائیکل، گاڑیاں، رکشے *متعلقہ تھانوں* میں *واپس کر دیں* ۔ ان سے کوئی بھی سوال نہیں کیا جائے گا۔ تاہم *48 گھنٹے گزرنے کے بعد* جن کے قبضے سے چوری شدہ املاک برآمد ہوئی اُن کو دہشتگردوں کا ساتھی تصور کیا جائے گا۔ ( *کوئٹہ پولیس* )
Comments 0