بی بی سی اردو کے مطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے پاس مذاکراتی وفد بھیجنے کے سوا کوئی راستہ نہیں ہے۔
سی این بی سی کو دیے انٹرویو کے دوران ٹرمپ نے یہ امید ظاہر کی کہ ’مجھے لگتا ہے کہ ہمارے درمیان ایک عظیم معاہدہ ہوگا۔‘
ان کا کہنا تھا کہ امریکہ مذاکرات کے لیے اچھی پوزیشن میں ہے اور ’ہم آبنائے ہرمز کو کنٹرول کر رہے ہیں۔‘
جب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا جنگ بندی میں توسیع کی جائے گی تو ٹرمپ نے کہا کہ ’میں ایسا نہیں کرنا چاہتا۔ ہمارے پاس اتنا وقت نہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ایران کے پاس ’یہی راستہ ہے‘ اور انھیں ’مذاکرات کرنا ہوں گے۔‘
امریکی صدر کا بھی کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کر لیتا ہے تو وہ ’دوبارہ مضبوط بن سکتا ہے اور ایک عظیم قوم بن سکتا ہے۔‘
ٹرمپ کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر معاہدہ نہ ہوا تو ایران پر دوبارہ بمباری شروع ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ سے براہِ راست پوچھا گیا کہ اگر اسلام آباد میں ہونے والے آئندہ مذاکرات میں پیش رفت نہ ہوئی تو کیا وہ دوبارہ حملے شروع کریں گے۔
اس پر ٹرمپ نے کہا کہ ’میری توقع ہے کہ بمباری ہو گی کیونکہ میرے خیال میں اسی ذہنیت کے ساتھ آگے بڑھنا بہتر ہے۔‘
انھوں نے مزید کہا کہ ’لیکن آپ جانتے ہیں، ہم تیار ہیں۔ میرا مطلب ہے کہ فوج پوری طرح تیار ہے۔‘
Comments 0