مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتکاری: موقع ضائع نہ ہو

مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی اور پاکستان کی سفارتکاری: موقع ضائع نہ ہو
مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر شدید کشیدگی کے نازک دور سے گزر رہا ہے، جہاں امریکہ اور ایران کے درمیان جاری تنازع نہ صرف خطے بلکہ عالمی معیشت کیلئے بھی خطرہ بنتا جا رہا ہے۔ ایسے میں پاکستان کی جانب سے کی جانے والی متحرک اور مسلسل سفارتکاری نے امید کی ایک کرن ضرور پیدا کی ہے، جسے عالمی برادری بھی قدر کی نگاہ سے دیکھ رہی ہے۔ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادت کی جانب سے مختلف دارالحکومتوں کے دورے، اہم شخصیات سے ملاقاتیں اور امریکہ و ایران کے درمیان پیغامات کی ترسیل اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اسلام آباد اس بحران کے حل میں سنجیدہ کردار ادا کر رہا ہے۔ وزیر اعظم کے قطر، سعودی عرب اور ترکی کے دورے اور دفاعی قیادت کے ایران میں روابط اس وسیع سفارتی حکمت عملی کا حصہ ہیں، جس کا مقصد جنگ بندی کو برقرار رکھنا اور فریقین کو مذاکرات کی میز پر واپس لانا ہے۔ یہ امر بھی قابلِ ذکر ہے کہ اسلام آباد میں امریکی اور ایرانی وفود کی حالیہ ملاقات ایک بڑی سفارتی کامیابی سمجھی جا رہی ہے۔ عالمی سطح پر پاکستان کی ثالثی کو سراہا جا رہا ہے اور اسے ایک قابلِ اعتماد پل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے جو متحارب فریقین کے درمیان فاصلے کم کر سکتا ہے۔ تاہم، اس تمام پیش رفت کے باوجود اصل فیصلہ واشنگٹن اور تہران میں ہونا ہے، اور بالخصوص امریکہ پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اس تنازع کے خاتمے کیلئے سنجیدہ اور عملی اقدامات کرے۔ اگرچہ حالیہ جنگ بندی اور ممکنہ مذاکرات کی خبریں حوصلہ افزا ہیں، لیکن زمینی حقائق اب بھی پیچیدہ ہیں۔ امریکہ اور ایران کے درمیان بداعتمادی کی فضا برقرار ہے، جبکہ اسرائیل کا کردار بھی کسی دیرپا معاہدے کی راہ میں رکاوٹ بن سکتا ہے۔ لبنان میں حالیہ کشیدگی اور مسلسل دھمکیاں اس بات کا ثبوت ہیں کہ امن کی راہ ابھی ہموار نہیں ہوئی۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ سفارتی عمل کو محض بیانات تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ اسے عملی پیش رفت میں تبدیل کیا جائے۔ پاکستان کی کوششیں اس وقت ایک اہم موڑ پر ہیں، اور اگر فریقین نے سنجیدگی کا مظاہرہ کیا تو یہ سفارتکاری ایک بڑے امن معاہدے کی بنیاد بن سکتی ہے۔ وقت کا تقاضا ہے کہ تمام متعلقہ قوتیں تحمل، تدبر اور سنجیدگی کا مظاہرہ کریں۔ جنگ کسی مسئلے کا حل نہیں، جبکہ مذاکرات ہی واحد راستہ ہیں جو خطے کو تباہی سے بچا سکتے ہیں۔ یہ ایک نادر موقع ہے جسے ضائع نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ اس کا نقصان نہ صرف مشرقِ وسطیٰ بلکہ پوری دنیا کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

Comments 0

Sort by:
Login to post a comment.